اخبارات ہوں یا ٹی وی چینلز ہر جگہ گوادر کی ترقی کے بڑے چرچے ہیں ١ور اس کی تشہیر میں زمین و آسمان ایک کیا جا رہا ہے جس کے تحت گوادر کو گیٹ وے آف ایشیاء قرار دینے کے ساتھ ساتھ دیگر کئ ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ شہروں کے برابر درجہ بندی کی جا رہی ہے۔لیکن دراصل حقیقت اس کے بالکل بریکس ہے۔ گوادر جس میں مستقبل کے کئ سہانے خواب دکھائے جارہے ہیں درحقیقت کئ مشکلوں سے دوچار ہے ۔جن میں سب سے بڑا مسلہ پانی کا ہے۔ بگ سٹی قرار دینے والے گوادر میں پانی کا بہت بڑا بہران آگیا ہےجس نےپورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔جس سے انسانی المیے کا بہت بڑا خطرہ ہے۔پھچلے تین مہینوں سے لوگ ڈیم کا بچا کچا کھارا اور کڑوا پانی پی رہیں ہیں۔جس سے طرح طرح کی بیماریاں پھیل چکی ہیں اور کئ جانیں بھی جاچکی ہیں۔لیکن اب یہ حالت ہو گئ ہے کہ یہی کڑوا پانی بھی میسر نہیں ہے۔ اندازے کے مطابق اگر ایک دو دن میں پانی کا انتظام نہ ہوا تو درجنوں کی تعداد میں لوگوں کی جانیں جانا شروع ہو جائیں گی۔ پبلک ہیلتھ کیئر کے مطابق انہوں نے چھ مہینے پہلے صوبائ حکومت کو وارننگ دی تھی۔کہ ڈیم کا پانی جلد ہی ختم ہونے والا ہے۔ان کا کہنا تھا کء وہ صوبائ حکومت کوہر مہینے یہ الٹیمیٹم دیتے رہیں ہیں کہ دسمبر تک ڈیم کا پانی بالکل خشک ہو جاے گا۔لیکن حکومت کے کان میں جوں تک نہ رینگی۔ان کو کوئ لینا دینا نہیں عام جیے یا مرے۔چونکہ انہیں پتہ تھا کہ دسمبر تک ان کی حکومت ختم ہوجاےگی لہازا انہوں نے ایسے کوئ بہی اقدامات نہیں کیے جن سے انسانیت کا بھلا ہو۔ ڈھائ سال میں بلوچستان میں صرف پانی کا مسلہ حل نہیں ہو سکا۔اس حکومت سے اور کس بات کی امید لگائ جاسکتی ہے؟ ہاں۔ترقی کا کام زوروشور سے چل رہا ہے۔یعنی جنگلات میں کئ سڑکیں بنائ گئ ہیں جن میں جناح ایونیو جو کہ جورکان تک جاتا ہے براڈوے ایونیو دربیلا تک مند ایونیو جیونی اور پشکان ایونو وغیرہ شامل ہیں۔ جن پر سے شاید جانوروں کے سوا کوئ نہیں گزرتا۔اور اب ریگستان کی مٹی سے ڈھب چکے ہیں۔کوئ ان سے یہ تک پوچھنے والا نہیں ہے کہ جنگلات میں روڈز بنانے کا کیا مطلب ہے؟؟؟عوام کا یہ پیسہ ایسے کیوں ضائع ہو رہا ہے۔ ان میں سے ایک ایونیو کا پیسہ بھی اگر یہاںلگایا گیا ہوتا تو چار سے پانچ ڈیم با آسانی بن گئے ہوتے۔اور آج یو کوئ بھی پانی کی ایک بوند کو نہیں ترستا۔اور اگر روڈز بنانے ہی ہیں تو گوادر سٹی کے اندر بنائے جایئں جہاں ابھی موٹرسائکل کے گزرنے تک کا راستہ نہیں ہے۔جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹی ہوئ ہیں۔گٹر کا پانی روڈز پر آنے کی وجہ سے تالاب بن چکا ہے۔مگر افسوس انہیں عوام سے کوئ سروکار نہیں ہے۔ ٢٠١٣ میں بھی ایسا ہی ایک بحران آیا تھااجب گورنمنٹ نے ٥٠ کروڑ سے زیادہ کا پیسا خرچ کر کے ٹینکرز کےذریے شہر تک پانی سپلائ کیا تہا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہی شاید ایسا ہوا ہو کہ پورے شہر کو ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا گیا ہو۔لیکن اس کے باوجود ہمارے لیڈروں کو کوئ فرق نہیں پڑا۔ گوادر میں یہ جو پانی میٹھا کرنے کا پلاٹ بن رہا ہے یہ تقریباً 10 قبل شروع کیا گیا تھااور 80 کروڑ سے زیادہ روپے اس پر خرچ ہوئے ہیں۔لیکن آج تک اس سے شہریوں کو ایک بھی لیٹر پانی نہیں ملا۔اور پلاٹ جیسا تھا ویسا کا ویسا ہے۔نجانے یہ پیسے کس کس کی جیب میں گئے ہیں۔ یہ جو روزانہ وزٹ کے نام پر deligations آتے ہیں جن کو پروٹوکول دینے میں ہمارا پورا انتظامیہ لگا ہوا ہے یہاں یہاں آکر صرف اور صرف زمینیں اپنے نام پر کرکے چلے جاتے ہیں۔اوراخبار کے فرنٹ پیج پر ان کا نام ایسے چھپتا ہے جیسے کہ انہوں نے وطن کے لیے اپنی جان تک قربان کردی ہو۔ فری ٹریڈ زون ایکسپریس وے انٹرنیشنل ائیرپورٹ جیسے بڑے بڑے میگا پروجیکٹس کی بات کرتے ہیں لوگ جہاں پانی پینے کو بھطی دستیاب نہیں وہاں ایسے پروجیکٹس کیسے بنیں گے؟ یہ ساری باتیں صرف خیالی پلاؤ پکانے کے مثل ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے اگر حکومت چاھے تو کیا نہیں ہوسکتا۔صرف شادی کور ڈیم سے اگر پائپ لائن لگادی جائے تو چند روپوں میں پوری زندگی گوادر کے پانی کا مسلہ حل ہو جائگا۔ اکیسوی صدی میں جینے کے باوجود ہماری یہ حالت ہے کہ اگر بارش نہ ہو تو تو لوگ پیاس سے یعنی پانی کی قلت سے مرتے ہیں۔اور اگر بارش ہوجاے تو ڈوب کر یعنی سیلاب کی ذد میں آکر ایک ساتھ کئ جانیں جاتی ہیں۔ اگر ڈیم بنائیں جائیں تو نہ ہی پانی کا کبھی بحران آئےگا اور نہ ہی سیلابیں۔لیکن شرط یہ ہے کہ کسی میں ہمارے لیے کچھ کرنے کا ازم ہو۔مگر ہم امید کے سوا اور کچھ نہیپ کرسکتے۔بس دعا کرسکتے ہیں کہ ﷲ پاک ہمارے حکمرانوں کو تھوڑا سا شعور اور تھوڑی ایمانداری عطا فرمادے تاکہ وہ زیادہ نہیں تو کم از کم کچھ نہ کچھ اپنی قوم کے لیے ضرور کریں۔ آمین BY:RIFFAT A.WAHAB BALOCH |
| PUBLISHED IN DAWN URDU NEWS | |||
No comments:
Post a Comment